ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل سیاسی حلقہ میں ہلچل : جے ڈی نائک نے یڈیورپا کی تہنیت کی ، کیا منکال کے خلاف جے ڈی نائک ؟

بھٹکل سیاسی حلقہ میں ہلچل : جے ڈی نائک نے یڈیورپا کی تہنیت کی ، کیا منکال کے خلاف جے ڈی نائک ؟

Sat, 20 Aug 2016 19:17:23    S.O. News Service

بھٹکل:20/اگست(ایس او نیوز)ریاستی ودھا ن سبھا کے انتخابات کے لئے ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے، مگر بھٹکل میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوتی جارہی ہیں،موجودہ رکن اسمبلی منکال وئیدیا کامقابلہ کرنے کے لئے ایک اہل اور مضبوط امیدوار کی تلاش مخالف گروہ میں جاری رہنے کی خبریں آرہی ہیں، فہرست میں موجود3-4ناموں کے ساتھ ساتھ سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کا نام بھی شامل ہونے سے میدان مزید گرما گیا ہے۔

آئندہ انتخابات میں کانگریس کی طرف سے رکن اسمبلی منکال وئیدیا کا نام سرفہرست ہے، حالیہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دئیے جانے کے  کانگریس ہائی کمان کے اعلان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی ہے تو منکا ل وئیدیا کوبڑی آسانی کے ساتھ ٹکٹ مل جائے گا۔ لیکن سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک خامو ش نہیں ہیں ، پردے کے پیچھے اپنی امیدواری کے لئے تمام تیاریاں کررہے ہیں، ضلع  میں جے ڈی نائک ابھیمانی سنگھ کا قیام ان خیالات کو تقویت دیتاہے۔ دومرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے جے ڈی نائک ، کانگریس لیڈران سے رابطہ توڑے نہیں بلکہ رابطے میں ہیں۔ پڑوسی ضلع کے لیڈر، ہائی کمان تک اپنا اثر رکھنے والےعاسکر فرنانڈیز کا آشیرواد جے ڈی نائک کے سرپرتو ہے ہی۔ انہی وجوہات کی بنا ان کے حمایتیوں کاکہنا ہے کہ آئندہ بھٹکل حلقہ کا امیدوار جے ڈی نائک ہی ہونگے۔ لیکن یہ سب کانگریس کے اندرونی گرہوں کی چپقلش کی حد تک محدود ہے۔ویسے بھٹکل میں کانگریس سے 4گنا زیادہ بی جے پی کے امیدواروں میں پیچیدگی ہے۔ گذشتہ مرتبہ بی جے پی کے امیدوار بنے گوندنائک کانام اس مرتبہ بھی سرفہرست ہے، حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے پی ایل ڈی بینک کے صدر سنیل بی نائک، کاسکارڈ بینک کے ریاستی نائب صدر ایشور نائک کے نام بھی فہرست میں ہیں۔ یہ تینوں نام بھٹکل ، ہوناور کے اطراف گردش میں ہیں تو ادھر بنگلورو میں ان ناموں کے ساتھ ایک اور منصوبہ تشکیل دینے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حلقہ کے  اکثریتی نامدھاری طبقہ کے ساتھ چھوٹے موٹے طبقات میں آج بھی اپنی عزت اور محبت کو باقی رکھے ہوئے شیوانند نائک ہی مناسب امیدوار ہیں ، انہی کو میدان میں اتاریں گے تو حساب برابر ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ کانگریس کے ابھیمانیوں کی طرف سے شیوانندنائک کی حمایت کئے جانے کا اشارہ ملنے کی وجہ سے لیڈران کی چال صحیح ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ وہیں یہ بھی سوچ بچار کیا جارہاہے کہ ابھی 7-8مہینے کے اندر شیوانندنائک صحت مند نہیں ہوئے تو کیا کیا جائے۔ اسی طرح سیاست میں چہک رہے جے ڈی نائک کو بی جے پی میں لے کر شیوانندنائک اور ان کے حمایتیوں کے ساتھ کانگریس کے خلاف مضبوط قلعی بندی کرنے کے متعلق بھی غور وفکر کیا جارہاہے۔ اگر شیوانند نائک انتخابات نہیں لڑتے ہیں تو جے ڈی نائک کو ممکنہ تعاون ملنے کی وجہ سے یہ فیصلہ لئے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایم پی اننت کمار ہیگڈے اور ہندو تنظیموں کے ساتھ جے ڈی نائک کا جو آپسی دلی لگاؤ ہے وہ اس وقت کام آسکتاہے۔ حال ہی میں شرالی میں منعقد ہہندو سماویش میں جے ڈی نائک کا پہلی قطار میں بیٹھنا ، کانگریس کی زبردست مخالفت کرنےو الے ہندو جاگرن ویدیکے کے پرانت سنچالک ، اشتعال انگیز بھاشن دینے والے جگدیش کارنت سے مصافحہ کرتے ہوئے پرانی دوستی کا اظہار کئے جانے کو دیکھیں تو بہت کچھ پتہ چلتاہے۔ جمعہ کو چتراپور مٹھ میں یڈیورپا کی آمد ہوئی تو وہاں جے ڈی نائک اپنے ساتھیوں کے ساتھ نظر آنا اور انہیں شال پہنا کر ان کی تہنیت کرنا کئی شکوک و شبہات ، سوالات کو جنم دیا ہے۔ جے ڈی نائک بہت جلد بی جے پی میں شامل ہونے کا تنازعہ بھی سر اٹھایا ہے۔ جے ڈی نائک کانگریس میں رہتے ہیں ، بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں ، امیدوار ہوتے ہیں یا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوالات بہت ہیں ، کچھ بھی ہو، حالیہ سیاستی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالیں تو یہ کہا جاسکتاہے کہ آئند ہ انتخابات میں جے ڈی نائک کا بہت ہی اہم رول ہونے کے امکانات ہیں۔

چتراپور مٹھ میں یڈیورپا کی تہنیت کئے جانے کے متعلق جب سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک سے سوال کیا گیا تو انہو ں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ سچ ہے کہ میں  جمعہ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ چتراپور مٹھ گیا تھا۔ مٹھ کے متعلق مجھےپہلے سے ایک بھگتی اوراس کا احترام ہے۔ رکن اسمبلی کے دوران بھی وہاں کی اسکول کے لئے تعاون دیا تھا، انہیں بھی مجھ سے پیار ہے، سوامی جی اور وہاں تشریف لانے والے وزیر دیش پانڈے کے لئے شال لے کر گیا تھا۔ چونکہ دیش پانڈے وہاں نہیں ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ یڈیورپا کو پہنایا۔ وہ جب وزیر اعلیٰ تھے تو اس دوران میں رکن اسمبلی تھا، اس طرح ہم دونوں ایک دوسرےسے آشنا ہیں، اس کا کوئی اور مطلب نہ نکالاجائے۔ جہاں تک انتخابات میں امیدوار ہونے کا تعلق ہے کچھ دن گزرنے دیجئے ، آپ کے ساتھ بات کرونگا‘‘


Share: